بھٹکل 23/ مارچ (ایس او نیوز) بھٹکل کے ایک نوجوان میں کرونا وائرس کے اثرات پائے جانے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے کل منگل صبح چھ بجے سے اگلے پانچ دنوں تک پورے بھٹکل میں لاک ڈاون کرنے کا حکم جاری کیا ہے اس کےساتھ ہی پورے ضلع اُترکنڑا میں امتناعی احکامات کے تحت 144 بھی جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کاروار میں اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اُترکنڑا ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ہریش کمار نے بتایا کہ بھٹکل میں غیر ممالک سے آنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے ۔ ان کے مطابق بھٹکل میں 40فیصد لوگ دوسرے ممالک سے آتے ہیں جس کو دیکھتے ہوئے یہ لاک ڈاون کیا جارہا ہے۔
بھٹکل کو لاک ڈاون کرنے کے ساتھ ساتھ کل سے ضلع اُترکنڑا کو جوڑنے والی سڑکوں بالخصوص دھارواڑ، گوا اور اُڈپی نیشنل ہائی وے کو سیل کیا جارہا ہے اور سواریوں کے داخلے نیز سواریوں کے گذر پر بھی پابندی عائد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ جس نوجوان کا کرونا رپورٹ پوزیٹیو آیا ہے، وہ کن کن لوگوں کے ساتھ رابطہ میں تھا، لاک ڈاون کے دوران اُن کا پتہ لگایا جائے گا اور اُن کی جانچ کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھٹکل میں زیادہ تر لوگ غیر ممالک سے بذریعہ ہوائی جہاز سفرکرتے ہوئے آئے ہیں، ہماری جانکاری کے مطابق اُن میں زیادہ تر لوگ اپنے اپنےگھروں میں ہی اپنے آپ کو بند کر رکھا ہے، اس پر نظر ثانی کی جائے گی، ساتھ ساتھ لاک ڈاون کے دوران کرونا وائرس کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لئے مزید کیا کیا اقدامات کئے جاسکتے ہیں، اُس پر غور کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ لاک ڈاون کے دوران تمام بازار اور کاروباری ادارے بند رہیں گے، البتہ ضروری اشیاء جیسے کھانا، راشن، دودھ، مچھلی، گوشت، ترکاری اور دوائیوں کی دکانیں کھلی رہیں گی۔
یاد رہے کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے دوران ہجوم پر پابندی عائد کی گئی ہے، پانچ یا اس سے زائد لوگوں کے ایک جگہ پر جمع ہونے پر پابندی ہوگی، پانچ سے زائد لوگوں کے جمع ہونے والے کسی بھی طرح کے پروگرام، جلسہ یا جلوس کرنے یا اُس میں شریک ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈی سی نے بتایا کہ امتناعی احکامات کل 24 مارچ صبح چھ بجے سے شروع ہوکر 30 مارچ رات بارہ بجے تک جاری رہیں گے۔
یاد رہے کہ کرونا وائرس کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لئے مینگلور سمیت 9 اضلاع میں آج سے ہی لاک ڈاون جاری ہے جہاں سے خبریں آرہی ہیں کہ تمام علاقے سنسان ہیں اور راستوں پر بھی لوگوں کی چہل پہل نظر نہیں آرہی ہے۔ سواریوں کا گذر بھی بند کردیا گیا ہے ۔